23 مئی 2012 - 19:30

ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان جامع مذاکرات بدہ کےدن سےبغداد میں شروع ہوئےہيں۔

ابنا: ان مذاکرات کےبارےميں مختلف آراء کااظہارکیاجارہاہے لیکن ہرطرح کی پیشگوئی سےقطع نظرجوموضوع اہمیت کاحامل ہے وہ آگےکی جانب پیشرفت ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے مذاکراتی فریق کےسامنےایٹمی مسئلے، علاقائی مسائل اورعالمی موضوعات سمیت کچہ تجاویزپیش کی ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کےسکریٹری سعید جلیلی اورخارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کیتھرین اشٹن نے مذاکرات کےعمل کومثبت قراردیاہے۔

اس میں کوئي شک نہيں کہ بغدادمذاکرات کافی اہمیت کےحامل ہیں کیونکہ جامع مذاکرات کےتناظرمیں قدم بڑھانےکےلئے متعدد اسباب وعلل کی ضرورت ہے ۔

امریکہ کےبعض اقدامات کےجاری رہنےسے ایٹمی مسئلےمیں غیرمنطقی مطالبات پراصرار اورماضي کی خلاف ورزیوں کےپیش نظرایران کےساتھ مذاکرات میں اعتماد کی کمی وہ جملہ مسائل ہيں جواب تک آگےکی جانب پیشرفت میں حائل رہےہيں۔

بنابرایں سیاسی دباؤ اورغیرقانونی پابندیوں کاتسلسل وہ اسباب ہیں جوموجودہ مذاکرات پراثرانداز ہورہےہيں۔ایران کےوزیرخارجہ علی اکبرصالحی نے بغداد مذاکرات کےآغازسےپہلے ایران کےخلاف پابندیاں سخت کرنےکےبل کی منظوری پرتنقیدکرتےہوئے کہاتھاکہ گروپ پانچ جمع ایک کو نیک نیتی پرمبنی روش اختیارکرنی چاہئے۔

اس بنا پر ان مذاکرات کےنتائج کےبارےمیں طرح طرح کی قیاس آرائياں کی جارہی ہیں چنانچہ اگرچہ مجموعی طورپرمذاکرات کومثبت قراردیاجارہاہے لیکن یہ کہنابےجانہ ہوگاکہ تعاون ایک دوطرفہ راستہ ہے اور کسی بھی اتفاق رائےکےلئےنیک نیتی ضروری ہے۔

جامع اور وسیع تناظرمیں ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان تعاون ایک ایساموضوع ہےجواگرمثبت نظراورنیک نیتی سےدیکھاجائےتوبڑےمسائل میں نظریات کوایک دوسرےسےنزدیک کرتاہےاوریقننا ایٹمی موضوع میں منطقی نتیجہ نکالنےمیں بھی مددگارہوگا۔ یہ وہی معاہدہ ہے جو استنبول ٹو اجلاس میں انجام پایااوراب بغداد مذاکرات کی میز پرہے۔ اس لحاظ سے بغداد مذاکرات کی کامیابی فریقین کےلئےاہم ہے کیونکہ یہ بعد کےقدم کےلئےمقدمہ ثابت ہوسکتی ہے۔

اگرچہ ایران اور آئی اےای اے کےدرمیان آمانوکےحالیہ دورہ تہران کےموقع پرہونےوالےمعاہدےکومبصرین این پی ٹی معاہدےکےتناظرمیں ایران کےایٹمی حقوق کوتسلیم کئےجانےکےسلسلےمیں مثبت تبدیلی سمجھتےہيں ۔

بہرحال واضح ہےکہ ایران کی جانب سے یورےنیم کی افزودگی کاحق این پی ٹی معاہدے کےمطابق اورآئی اےای اے کی نگرانی میں انجام پارہاہے جس کابغداد اجلاس کےبعض فریقوں نےاعتراف بھی کیاہے۔اس بناپرایران نےگروپ پانچ جمع ایک کی جانب سےمشترکہ نکات کی بنیاد پرمذاکرات کی دعوت کاخیرمقدم کیاہےلیکن اس اہم نکتےپرتاکیدکی ہےکہ این پی ٹی معاہدے کی حیثیت سےایٹمی موضوع ميں ایران کےمسلمہ حقوق پرکسی طرح کی گفتگونہیں کی جاسکتی اوراگرہوسکتی ہےتوصرف اس بات پر کہ این پی ٹی معاہدےکےتناظرمیں ایران کےحقوق کومحترم سمجھاجائے۔
....... 
/169